Fati or

        درمیانی عمر کے  بچے زندگی کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں نصیحت کی لمبی چوڑی باتیں کم ہی بھاتی ہیں۔ پھر ان کو کیسے بتایا جائے  کہ  آنے والے دور کے زینے کیسے چڑھنے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے فاتی اور بلّو کی کہانیاں ضرور پڑھیں۔


 

الحمدللہ !

          Print

سلیمان آج سکول سے واپسی  پر پھر سے اداس تھا ۔ وہ خود  کو تنہا سمجھنے لگا تھا۔ آج تو اس سے صبر نہ ہوا اور وہ  چھپ کر کمرے میں جا کر  بستر پر لیٹ کر رونے لگا۔ بات یہ تھی کہ  صبح جب سلیمان  اپنی کلاس  میں آیا تو سب بچے  حمادکے گرد جمع تھے  ۔حماد بڑے فخر سے  سب کو اپنا  نیا بیگ  اور نیا جیومیٹری باکس دکھا رہا تھا  اور سب بچے اس کی تعریف کر رہے تھے  ۔پوری کلاس کے بچے حماد کو پسند کرتے تھے اور اس کے دوست بننا چاہتے  تھے کیونکہ حماد سب دوستوں کے لئے بھی تحفے لاتا تھا۔

Ammi Dant'ti hen

          Print

آج  فرحین پھر اداس  بیٹھی تھی۔  امی سے آج اسے  اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی  ۔اب تو آنسو بھی گال پر پھسل  رہے تھے۔  وہ تکیہ میں  منہ چھپا کر رونے لگی  ۔روتے روتے نہ جانے  کس پہر اس کی آنکھ لگ گئی۔  شام کو جب وہ اٹھی  تو خالہ امی گھر پر موجود تھیں۔  وہ دوڑ کر خالہ امی کے گلے لگ گئی  ۔خالہ امی نے اسے پیا ر کیا اور اس کے لئے جو تحفے لائیں تھیں وہ دیے۔

رات کو وہ  خالہ امی کے  ساتھ سونے  کے لئے لیٹ گئی ۔پہلے تو وہ خالہ امی  سے ادھر  ادھر کی باتیں  کرتی رہی پھر اچانک  رونی  صورت  بنا کر بولی:"  آپ کو پتا  ہے

Khoshi Key lahar

           Print

امی جان نے کچن کی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا۔ فاتی اور بلّو آج کچھ زیادہ ہی پرجوش نظر آرہے تھے۔

’’ضرور! یہ پھر کسی شرارت میں مصروف ہیں۔ ابھی جا کر دیکھتی ہوں۔ ‘‘ امی جان نے مسکراتے ہوئے سوچا اور کچن سے نکلنے لگیں۔ اسی اثناء میں ننھے کاشان کی رونے کی آواز آئی تو امی سب بھول بھال کر کمرے میں چلی گئیں۔

کچھ دیر بعد امی جان صحن میں آئیں تو انہیں چھوٹا سا پنجرہ نظر آیا جس میں ایک ننھی سی چڑیا چوں چوں کر رہی تھی۔ انہوں نے  کہا۔’’فاتی ! بلّو یہ کیا! آج آپ نے پھر ایک اور چڑیا پکڑ لی ہے۔۔۔

Jab Pahloo nay batain Key

فاتی اور بلو  کی امی جان کمرےمیں داخل ہوئیں تو ان کے ہاتھ میں پھلوں   کی ایک  چھوٹی سی  سرخ پلیٹ تھی۔

’’ بیٹا! یہ پھل لازمی کھائیں۔ پھل آپ کی صحت کے لیے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ ‘‘ امی جان نے پیار سے کہا اور پلیٹ رکھ کر چلی گئیں۔

’’نہیں میں نہیں کھا سکتا۔ مجھے تو پھل اچھے ہی نہیں لگتے۔ ‘‘  دس سالہ بلونے منہ بنا کر کہا۔  نو سالہ فاتی کا دل بھی بالکل نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے پلیٹ کو ڈھک کر رکھ دیا