Men Zindagii

   اس Category   میں نوجوانوں کے لیے لکھی گئی دلچسپ کہانیاں شامل ہیں۔ زندگی کے مشکل اور الجھن بھرے لمحات سے کیسے نمٹناہے اور اپنے رب کو کیسے راضی  کیسے کرنا ہے، یہ جاننے  کے لیے یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


پچھلے کچھ مہینوں میں مجھے کرسی پر نماز پڑھنے کی عادت سی ہوگئی۔ پہلے تو نمونیہ تھا اور گھٹنے کا درد جس کی وجہ سے کچھ ہفتے میں نے کرسی پر نماز پڑھی۔ لیکن پھر ایسی سستی غالب آئی کہ خدا پناہ!  مسجد میں بھی جاتا تو پہلے کرسی اٹھا کر صف میں رکھتا پھر نماز شروع کرتا۔ 

اندر ہی اندر دل کہہ رہا ہوتا تھا کہ یار یہ ٹھیک نہیں کررہا میں۔ اب تو طاقت آ گئی ہے کھڑے ہو کر پڑھنے کے لیے۔ پھر بھی تو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔ پھر دل خود ہی بہانے تراشنے لگتا کہ ہاں بس ابھی دوائی تو جاری ہے ناں۔ یہ نہ ہو کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھوں تو پھر درد نکل آئے۔ 

ضمیر کہتا۔ "کیوں کیوں؟ کیوں درد نکلے گا؟ جب آفس کی سیڑھیاں چڑھتے ہو تو درد نہیں نکلتا۔ جب اچھل اچھل کر بیڈمنٹن کھیلتے ہو تو کوئی درد ورد نہیں۔ بس یہ درد کی تلوار نماز ہی پر چلنی ہے کہ جیسے ہی نماز کا ٹائم آیا تو تم خود کو معذوروں کی صف میں کھڑا کر دیا۔"

(وطن عزیز میں طب کے مقدس شعبےکے نام پر ہسپتالوں میں جاری  کاروبار کو عریاں کرتی ایک کہانی ۔ تین ڈاکٹرز کی جنگ  ... دو  وہ جو دکاندار بن کرمریض کی حق حلال کی کمائی ہتھیانے کے چکر میں  رہتے تھے، تیسرا وہ  جس کے سینے میں دل تھا ... جو مریض کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھنا چاہتا تھا)

میرا نام واحد ہے۔میں اپنے خاندان کا تیسرا ڈاکٹر ہوں۔ میرے دو چچا زاد بھائی بھی ڈاکٹر ہیں۔ آپ نے الشمس ہاسپٹل کا نام سنا ہو گا۔ کافی بڑا ہسپتال ہے۔ ہمارے گھرکے قریب ہی ہے۔ پھر میرے دونوں چچا زاد بھائی، ڈاکٹر رفیع اور ڈاکٹر سمیع بھی وہیں ہوتے ہیں۔ ہاؤس جاب کے بعد میرے ابو نے کہا۔

’’بھئی! اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔یہ پاس ہی  الشمس ہسپتال ہے۔ یہیں پریکٹس شروع کر دو۔ میں نے سمیع اور رفیع سے بات کر لی ہے ۔ تمھاری کافی مدد کریں گے۔ کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔‘‘

’’جی ٹھیک ہے ابو ! ‘‘ میں نے ہمیشہ کی طرح ابو کی بات مان لی۔ یہ اور بات ہے کہ میں نے ان کی وہ گفتگو سن  لی تھی جو وہ فون پر کل رفیع بھائی سے کر رہے تھے۔

یہ ہرگز نہ تھا کہ اسے کسی نے مجبور کیا ہو یا کوئی دباو ٔڈالا ہو۔ یہ تو اس کی بچوں سے بے تحاشا محبت اور وابستگی تھی جو اس نے سپیشلا ئزیشن کے لئے بھی پیڈز سرجری کو چن لیا تھا۔ وارڈ میں دن رات کی بھاگ دوڑ اسے تھکا تو دیتی تھی لیکن دلی طور پہ وہ خاصی پر سکون رہتی۔ ننھے منے بچوں کو بیماریوں سے لڑتا دیکھ کر اس کے اندر ایک حوصلہ اور جذبہ بڑھتا اور نشونما پاتا رہتا۔ ان معصوم فرشتوں کے چہروں پہ مسکراہٹ لانے کے لئے وہ صرف علاج نہ کرتی بلکہ ان کے ساتھ بچہ بن جاتی ۔انہیں بہلاتی۔ کہانیاں سناتی تو بچے بھی آرام سے اس کے ہاتھ سے دوا پی لیتے انجکشن لگوا لیتے۔ سال ہونے کو تھا اور اسے بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ چلڈرن وارڈ میں ڈیوٹی دینے کے لئے کس قدر صبر ہمت حوصلہ اور برداشت کی ضرورت ہے۔ روتے بلکتے ننھے بچوں کے روئی سے بھی نرم ہاتھوں کی ننھی منی رگوں میں برینولا پاس کرنا کسقدر مشکل مرحلہ ہے اور پھر اکثر ہی وارڈ میں اس وقت اس کا نام پکارا جاتا جب سب آن ڈیوٹی ڈاکٹر اور نرسز کسی بچے کو ہینڈل کرنے میں ناکام ہو جاتے۔

 ’’ ڈاکٹر امامہ اس بچے کی وین ( رگ) نہیں مل رہی آپ اسے دیکھ لیں ۔‘‘

’’پندرہ برس کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا۔ میں نے اپنی زندگی کے پندرہ برس کانٹوں کے بستر پر گزارے ہیں۔میں روز مرا اور روز جیا ہوں۔مجھے صرف انتقام نے زندہ رکھا ہے۔‘‘

اس نے ڈائری پر ابھی اتنا ہی لکھا تھا کہ قلم نے چلنے سے انکار کر دیا۔ عاطف نے قلم کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑا اور کھڑکی کی جانب اچھال دیا۔ قلم کھڑکی سے باہر پڑے ایک گملے میں جا گرا۔
’’پتا نہیں میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ مجھے جب بھی کوئی خوشی میسر ہوتی ہے اُسے ہرن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی پنگا ضرور ہو جاتا ہے۔‘‘ اس نے اپنے آپ سے سرگوشی کی اور پھر کرسی چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل آیا۔ یہ ایک بڑے بحری جہاز کا حصہ تھا۔ جس کے ایک طرف کمروں کی قطار تھی اور ان کمروں کے سامنے ایک راہداری سی بنی ہوئی تھی۔ جس میں قطار در قطار گملے رکھے ہوئے تھے جن میں سمندر ی موسم سے مطابقت رکھنے والے پودے اگائے گئے تھے۔ آگے جہاز کا خالی عرشہ تھا۔ اور اس سے آگے ریلنگ لگی ہوئی تھی۔ عاطف اسی ریلنگ کے ساتھ جا کھڑا ہوااور تاحد نگاہ پھیلے سمندر کو تکنے لگا۔

فزکس کے پروفیسر نیازی صاحب جب سے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بنے تھے، لیبارٹری کے اسسٹنٹ علی کی شامت آ گئی تھی۔ صبح سویرے نیازی صاحب کالج پہنچتے ہی لیبارٹری میں جھانکتے۔ وہاں علی کو نہ پا کر فوراً اسے کال ملاتے۔

’’ہاں بھئی علی! کہاں ہو تم؟‘‘

’’جی سر ! میں آرہا ہوں۔آج  رش میں پھنس گیا تھا۔‘‘ علی جواب دیتا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اور لیبارٹری میں پہنچتا۔ اسے پتہ تھا نیازی صاحب کا پہلا پیریڈ فری ہوتا ہے۔سو  اس وقت انہیں گرما گرم چائے کا کپ چاہیے۔ ساتھ اچھی کوالٹی کے بسکٹ جو اکثر ہی علی کو کالج کے باہر والی دکان سے لانے پڑتے۔اچھا خاصا بڑا کالج تھا اور فزکس ڈیپارٹمنٹ تھا بھی تیسری منزل پر۔ سو علی کی اچھی خاصی ورزش ہو جاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔

اس رات علی کھانا کھا رہا تھا جب اس کا فون بج اٹھا۔ نیازی صاحب کال کر رہےتھے۔ خیر ہے اس ٹائم کیوں یاد کر رہے ہیں؟ اس نے سوچا اور یس کا بٹن دبا دیا۔

’’علی! یار میرا ہیٹر خراب ہو گیا ہے۔اسے ٹھیک کروانا ہے۔ تم بتا رہے تھے تمھارا گھر صدر والی مارکیٹ کے بالکل ساتھ ہے؟ وہ ہیٹر وغیرہ کی دکانیں بھی وہیں ہیں ناں؟‘‘

’’جج جی! سر! ‘‘ علی ہکلا گیا۔

’’احمد بیٹا آج مجھے بازار کام سے جانا ہے تو تم مجھے لے جاؤ گے؟‘‘  خدیجہ بیگم نے احمد سے کہا۔ وہ ابھی ابھی سو کر اٹھا تھا۔

’’امی! آپ کو پتہ ہے  مجھے شام میں دوستوں کے پاس جانا ہے آپ سعاد کو بولیں وہ آپ کو بازار لے جائے گا ۔‘‘
’’ بیٹا سعاد پر تو ویسے ہی سارے گھر کا بوجھ ہے ۔ وہ ابھی بل جمع کر وانے گیا ہے پھر سبزی لیتے ہوئے آئے گا اور شام میں تمہارے ابو کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جائے گا۔ تم فارغ ہو کالج سے واپس آکر سارا وقت آرام اور فالتو وقت ضائع کر دیتے ہو کچھ ذمہ داری تم بھی سنبھالو بیٹا !‘‘ خدیجہ بیگم نرمی سے کہتی چلی گئیں۔ وہ چاہتی تھیں اب احمد بھی گھر کی ذمہ داریوں میں سعاد یعنی ان کے بھانجے کا ہاتھ بٹائے۔
’’امی جان اگر سعاد گھر کے کچھ کام کاج کر دیتا ہے تو ہم پر کون سا احسان کر تا ہے۔ ہم نے اس کو اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے ورنہ آج وہ کسی یتیم خانے کے دھکے کھا رہا ہو تا۔

اتنے میں عبدالکریم دکان سے آگیا۔ اس دن وہ جلدی آگیا تھا ۔ کوئی کام تھا لیکن جب اس نے صوفیہ کی حالت دیکھی تو فوراً سے پہلے ہسپتال لے گیا۔ الفت  بیگم کہتی رہ گئیں۔

’’ہائے ہم نے بھی بچے پیدا کیے ہیں۔ ہمارے یہ لچھن تو نہ تھے۔ ابھی درد شروع ہوئے نہیں فون کر کے میاں کو بلوا لیا۔ آئے ہائے کیا زمانہ آ گیا ہے۔ یہ آج کل کی چھوئی موئی لڑکیاں ایک ذرا سے دردوں سے بے حال ہوئی جاتی ہیں۔ ایک ہم تھے آہ ہا! کیا دور تھا۔۔‘‘