arrownew e0 ’’آج تو یہ میری تعریف ضرور کریں گے۔‘‘ زلیخا نے اپنا آپ آئینے میں دیکھتے ہوئے سوچا۔ وہ آج بہت دل لگا کر تیا ر ہوئی تھی اور بہت اچھی لگ تھی۔

انصاری صاحب کے آنے کا ٹائم ہو چکا تھا۔ زلیخا نے جلدی جلدی ڈریسنگ ٹیبل سمیٹا اور کچن میں چلی گئی۔ چائے کا سامان تیار تھا۔ اتنے میں گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ گڑیا باہر بھاگی۔

’’بابا آگئے ! بابا آگئے۔‘‘

انصاری صاحب اندر داخل ہوئے تو ان کے ہاتھ میں سبزی، فروٹ اور دیگر سامان تھا۔ گڑیا نے اپنے کھلونوں والا شاپر کھول لیااور زلیخا نے پانی کا گلاس انصاری صاحب کو پیش کیا۔

انصاری صاحب نے بس سرسری سی نظر سے زلیخا کی ساری تیاریوں کو دیکھا اور کہنے لگے۔

 

’’دیکھو! میں نہایت اچھے والے تربوز لایا ہوں۔ انشاء اللہ میٹھے نکلیں گے۔ ابھی سے کاٹ کر فریج میں رکھ دو۔ ‘‘ زلیخا نے جی اچھا کہ کر سر ہلا دیا۔

’’اور ہاں! سیب اس بار  بہت رسیلے ملے ہیں۔ چکھ کر بتانا اچھا! بھئی سبزیوں کے ریٹ تو آسمان کو چھو رہے تھے۔ لیکن میں پھر بھی  تازہ لوکی اور مٹر لے آیا ہوں۔ رات کو مٹر پلاؤ ہو جائے تو اچھا ہے۔ بہت فریش مٹر تھے۔ میں نے کہا لے لوں۔ اور وہ جو نیلا شاپر ہے ، اس میں دہی ہے۔ گڑیا! ذرا احتیاط سے لے جاؤ ۔بہت ہی میٹھا دہی ہے بھئی!  بیسٹ ملک  والے سے  جولایا ہوں ۔ چٹنی اچھی بن جائے گی۔‘‘ باتوں کے دوران ہی انہوں نے چھوٹی بیٹی گڑیا کو آواز دی اور خود صوفے پر ہی لمبی تان لی۔ زلیخا سارے شاپر سمیٹ کر ۔۔ اور شاید اپنے ٹوٹے دل کے ٹکڑے بھی سمیٹ کر کچن میں چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ انصاری صاحب کی شروع سے عادت تھی۔ زلیخا جتنا مرضی تیار ہو جاتی ، ان کے کانوں پر جوں نہ رینگتی۔ کبھی وہ بالکل ہی تیار نہ ہوتی، یونہی گندے میلے سے کپڑے پہن کر گھومتی رہتی تب بھی انصاری صاحب کو کوئی فرق نہ پڑتا۔ وہ کبھی اسے غور سے نہ دیکھتے تھے۔ سراہنا اور تعریف کرنا تو بہت دور کی بات تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

’’زلیخا! یہ سوٹ کیسا لگ رہا ہے ؟ درزی نے یہاں سے کچھ تنگ  سانہیں کر دیا؟‘‘ انصاری صاحب آئینے کے سامنے کھڑے تھے۔ آج  جمعہ تھا اور انہوں نے کل ہی درزی سے لایا نیا سوٹ زیب تن کیا تھا۔

’’نہیں ! یہ تو بہت جچ رہا ہے آپ پر۔میرے خیال سے تو بالکل پرفیکٹ لگ رہے ہیں آپ!‘‘ زلیخا نے ہمیشہ کی طرح کھلے دل سے تعریف کی۔

انصاری صاحب سرشار ہو گئے۔

’’ٹھیک ہے! میں چلتا ہوں۔ واپسی پر کھانا تیار رکھنا ۔ میں آئس کریم لیتا آؤں گا۔ والز کا نیا فلیور آیا ہے بہت شاندار ہے۔ ذرا اس کو چیک کرتے ہیں۔‘‘ یہ کہتے کہتے انصاری صاحب گاڑی میں بیٹھ گئے اور ریورس کرنے لگے۔

انہیں ایک بار بھی نظر نہ  آیا  کہ آج زلیخا نے  بھی درزی سے لایا ہوا  نیا سرخ جوڑا پہن رکھ تھا!

۔۔۔۔۔۔۔۔

’’زلیخا! یہ دیکھو ذرا ! یہ پڑھو!‘‘ انصاری صاحب بہت جوش میں تھے۔

زلیخا کچن سے نکلی اور ہاتھ صاف کرتے ہوئے موبائل انصاری صاحب کے ہاتھ سے لے لیا۔

’’سر! آپ اس دنیا کے سب سے اچھے ٹیچر ہیں۔ میں نے جتنا آپ سے سیکھا اور جتنی محبت و شفقت آپ سے پائی ہے وہ مجھے کہیں اور نہیں ملی۔ سیلوٹ ٹو یو سر! ‘‘ یہ انصاری صاحب کے ایک شاگرد کا کمنٹ تھا جو ان کی پروفائل پکچر پر کیا گیا تھا۔

’’ہمم ! اچھی بات ہے!‘‘ پتہ نہیں کیوں زلیخا کا دل بری طرح بجھ گیا اور اس نے بس اتنا کہ کر موبائل انصاری صاحب کے ہاتھ میں واپس پکڑا دیا۔  انصاری صاحب زلیخا کا بجھاہوا انداز محسوس نہ کر سکے۔ وہ اپنے شاگردوں کے کمنٹس پر جوابات دینے میں مصروف تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’پتہ نہیں کون اتنی صبح آگیا ہے؟‘‘

زلیخا  گہری ہوئی نیند سوئی تھی لیکن پے درپے گھنٹیوں کی وجہ سے اٹھنا پڑ گیا۔ کل رات گئے ایک شادی سے واپسی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ابھی تک سستی ہو رہی تھی۔

 آج پیر کا دن تھا۔ انصاری صاحب  بھی گھر پر نہیں تھے اور گڑیا بھی سکول گئی ہوئی تھی۔ایک بار پھر زوردار بیل ہوئی تو  زلیخا نے  جلدی  میں کل رات کو اتارے ہوئے کامدار سوٹ کا ہی دوپٹہ اوڑھ لیا  اور بھاگ کر دروازہ کھولنے چلی گئی۔

’’کون؟ کون؟‘‘ دو تین بار پوچھنے پر بھی کوئی نہ بولاتو زلیخانے تھوڑا آگے ہو کر گیٹ سے باہر دیکھنا چاہا۔

’’میں یہ ساتھ والے گھر سے آیا ہوں۔ ہمارا ٹیلی فون کا بل آپ کی طرف تو ۔۔۔‘‘ پڑوس والے صاحب تھوڑا آگے ہوئے اور  کہتے کہتے رک گئے۔ ان کی نظریں زلیخا پر پڑ چکی تھیں ۔

 زلیخا یکدم پیچھے ہوئی اور سخت لہجے میں بولی۔

’’جی نہیں! ہماری طرف نہیں آیا۔‘‘ اور ٹھک سے گیٹ بند کر دیا۔

’’ہونہہ! نان سینس! کیسے گھور رہا تھا۔  آجاتے ہیں بس بہانے سے۔ بھئی اپنی بیوی کو بھیج دو۔ ‘‘ زلیخا اندر ہی اندر کڑھتے  ہوئے اندر آئی تو دیوار گیر آئینے کے ساتھ رک گئی۔ اس نے ایک لمحے کے لیے اپنا آپ آئینے میں دیکھا اور ۔۔۔ الجھ کر رہ گئی!