بہت سوچ بچار کے بعد زاہد نے بینا کی مدد کے لیے ایک کام والی رکھ لی۔ جو صرف ہفتے اور اتوار کا آتی تھی۔ سدا کی صفائی پسند بینا کو کام والی کا کام کہاں پسند آتا۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ خود بھی جھاڑو اٹھا لیتی اور گھر کو چمکا کر ہی دم لیتی۔ زاہد کے ارمان ادھورے کے ادھورے ہی رہے کہ کبھی تو بینا بن سنور کر اس کے پاس آکر بیٹھے گی اور اسے وقت دے گی۔

دن اسی ڈگر پر چل رہے تھے کہ نئے مہمان کی آمد نے زاہد کو اندر تک سرشار کر دیا۔ہسپتال سے گھر آنے کے بعد اس کی خوشی چڑچڑے پن میں بدل گئی جب بینا نے کہا۔

 

’’دیکھیں! میری تو اب جا کر جاب سیٹل ہو ئی ہے۔ اتنی جلدی کیسے چھوڑ دوں۔ میں نے جمیلہ کو بلوایا ہے گاؤں سے۔ وہ ننھے کی دیکھ بھال خوب اچھی طرح کرے گی۔ ‘‘

جمیلہ تو گاؤں سے اپنے دو ٹرنک سمیت آگئی لیکن زاہد کے لیے ایک نیا امتحان شروع ہو گیا۔ الھڑ نوجوان شوخ رنگ پسند کرنے والی جمیلہ کا پراندہ یہاں سے وہاں جھنجھناتا پھرتا تھا اور زاہد کے دل کے تار ہلتے جاتے تھے۔ وہ بہت کوشش کرتا کہ جمیلہ سے اپنا ذہن ہٹا لے۔وہ سکائپ پر بینا سے بات کرنا چاہتاتو کال مس ہوجاتی ۔ بیناپڑھانے میں مصروف ہوتی تھی ۔ لیکچرشپ کے ساتھ ساتھ اب اس کی کوئی دوسری ایکٹیویٹیز بھی تھیں۔ اب اس کے پاس زاہد کی دن رات کی سکائپ کالز اٹینڈ کرنے کا ٹائم بالکل نہیں تھا۔ ہاں ہر دوسرے دن جمیلہ کو فون کر کے ننھے کا حال پوچھ لیتی اور ہدایات دیتی۔

’’بینا! ویسے تو پورا سٹاف تمھارہ عقل مندی کی داد دیتا ہے لیکن اس معاملے میں تم بالکل بے وقوف نکلی۔ ‘‘ یہ مسزسلیم تھیں ۔ انہیں بینا کے گھر کے حالات بخوبی معلوم تھے لیکن جب انہیں جمیلہ کا گھر آکر رہنا پتہ چلا تو وہ دنگ رہ گئیں۔ انہوں نے بینا کو خوب سنائیں۔

’’نہیں مسز سلیم! آ پ کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔ زاہد کسی دوسری عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ بینا کہ کر چلی تو آئی لیکن اندر ہی اندر اسے دھڑکا لگ گیا۔ پتہ نہیں کیوں دل بے چین سا ہو رہا تھا جیسے کچھ کھونے لگا ہو۔

بدھ کی دوپہر تھی جب بینا نے آٹومیٹک دروازے کا لا ک کھولا اور گھر کے اندر قدم رکھا۔ چار سو خاموشی تھی۔ہر شے سلیقہ اور صفائی سے رکھی گئی تھی اور بریانی کی خوشبو ابھی تک کچن سے آرہی تھی۔ لگتا تھا دوپہر کو زبردست لنچ کیا گیا ہے۔ ’’شاید زاہد کے کوئی دوست آئے ہوں گے کھانے پر۔‘‘ بینا نے سوچا اور بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی۔

زاہد سو رہا تھا۔ قاسم کے ننھے خراٹے بھی کمرے میں گونج رہے تھے۔ اچانک واش روم سے جمیلہ نکلی۔ پانی اس کے بالوں سے ٹپک رہا تھا ۔ اس نے بینا کا سوٹ پہن رکھا تھا اور بینا کی ہی جیولری زیب تن کیے اب وہ حیرت اور بوکھلاہٹ کے مارے کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔بینا کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج بینا کو کالج میں پڑھاتے ہوئے تیس سال ہو چلے ہیں اور زاہد ، جمیلہ اور قاسم اس کی زندگی سے کب کے نکل چکے ہیں۔ تنہائی ، اداسی اور پچھتاوا بینا کا مقدر ٹھہرا ۔ گزرے ماہ و سال اس کے چہرے پر ایک ایسی تھکن کا احساس ثبت کر گئے ہیں جو دیکھنے والوں کو صاف محسوس ہوتی ہے۔ جی ہاں! بینا تھک گئی ہے اور مری کی سفید پوش پہاڑی پر بنے ہوئے چھوٹے سے گھرکی کھڑکی کے پاس ،کافی کا مگ تھامے اکثر سوچتی رہتی ہے کہ غلطی کہاں ہوئی۔کیا آپ بینا کو بتا سکتے ہیں؟