کچھ حاصل نہیں ہوتا

          Print

’’ٹوں ٹوں ٹوں!‘‘ سحری کا الارم ہوا تو ناصر اٹھ گیا۔ جلدی سے وضو کیا۔ ہر طرف خاموشی تھی ۔ ٹھنڈی سی ہوا چل رہی تھی۔ ناصر نے کھڑکی کے ساتھ جائے نماز بچھائی۔ پھر اس نے ایک نظر آسمان پر ڈالی۔ تارے چمک رہے تھے۔ ہر سو خاموشی کا عالم تھا۔ ناصر کو ایسے ماحول میں تہجد پڑھنے میں بہت مزہ آتا تھا۔ اس نے بہت سکون اور خشوع کے ساتھ تہجد ادا کی۔ 
اس کی فیملی گاؤں میں ہوتی تھی۔

 وہ شہر جاب کے سلسلے میں رہائش پذیر تھا۔ ا س نے اپنے دوست اظہر کے ساتھ مل کر یہ فلیٹ کرائے پر لے رکھا تھا۔ 
تہجد پڑھ کر اس نے سحری بنائی۔

 اظہر کو اٹھایا جو ساری رات موبائل پر دوستوں سے بات چیت کرتا رہا تھا۔ اس کی آنکھ سحری سے کچھ دیر پہلے ہی لگی تھی۔ سو اٹھنے میں بھی دیر ہو گئی۔
جب تک اظہر ٹیبل پر آیا سحری ختم ہونے میں دس منٹ رہ گئے تھے۔ ناصر اپنی پلیٹ اور کپ دھو کر بھی رکھ چکا تھا اور اب تلاوت کر رہا تھا۔
’’یار! اذا ن ہو رہی ہے ۔ اب تو کھانا چھوڑ دو۔‘‘ ناصر نے اذان کے دوران بھی اظہر کو پراٹھے کے بڑے بڑے نوالے کھاتے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ 
’’ام م م ! ایک منٹ! بس! ‘‘ اظہر نے بھرے منہ کے ساتھ مختصر جواب دیا۔ اذان کے اختتامی الفاظ کے ساتھ اظہر پانی کی بوتل منہ کے ساتھ لگائے کھڑا تھا۔ ادھر اذا ن ختم ہوئی ادھر اظہر نے بھی پانی کی بوتل خالی کر دی۔
اب اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ وہ بمشکل بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔
’’میں نماز کے لیے جارہا ہوں۔ چلنا ہے؟ ‘‘ ہمیشہ کی طرح ناصر نے دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا۔ اسے معلوم تھا آج اظہر نہیں جا سکے گا کیونکہ وہ کچھ زیادہ ہی کھا گیا تھا اور اس کی نیند بھی پوری نہیں ہوئی تھی۔
’’نہیں یار!‘‘ اظہر نے کچھ بے زاری سے کہا اور آنکھیں موند لیں۔
................
تراویح کے بعد ناصر مسجد سے لوٹاتو اظہر حسب معمول موبائل میں مصروف تھا۔ اس نے دو کپ چائے بنائی اور اظہر کے پاس آکر بیٹھ گیا۔
’’واہ! یار! جیتے رہو! مجھے چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی!‘‘ اظہر نے نعرہ مارا اور چائے کا کپ اٹھا لیا۔ ساتھ ہی وہ بدستور موبائل پر مصٖروف تھا۔
’’یار! تجھے پتہ ہے کمپنی والے ریاض صاحب کو جاب سے فارغ کر رہے ہیں۔ ویسے بڑے ظلم کی بات ہے ۔ ‘‘ ناصر نے کہا۔
’’ہاں! معلوم ہے۔ ‘‘ اظہر نے کہا اور موبائل سائیڈ پر رکھ دیا۔ ’’جناب ! ریاض صاحب نے جتنی چھٹیاں کی ہیں پچھلے مہینے اور کوئی معقل وجہ بھی پیش نہیں کی۔ باس کو غصہ تو آنا ہی تھا۔ ‘‘
’’ہاں! پھر وہ کام بھی صحیح نہیں کرتے ۔ ہر پراجیکٹ ادھورا چھوڑ کر لمبی چھٹی پر چلے جاتے ہیں۔ ‘‘ ناصر نے کہا۔
’’جی ہاں! اس بات کو میرے سے زیادہ اور کون جانتا ہو گا۔ ان کے سارے پراجیکٹ مجھے کرنے پڑے ہیں۔ کیونکہ رمضان کی وجہ سے باس کو جلدی چاہیے تھے۔‘‘ اظہر نے منہ بنا کر کہا تو ناصر کو ہنسی آگئی۔
’’بس ! تُو یہ بات مانتا ہے کہ باس ریاض صاحب کو بالکل صحیح نوکری سے نکال رہے ہیں؟‘‘
’’ہاں ! لیکن تو کیو ں پوچھ رہا ہے؟‘‘
’’یار! دیکھ! کل قیامت والے دن تجھے بھی یونہی فارغ کر دیں گے اللہ میاں! جب روزے کا ثواب بانٹیں گے۔‘‘ ناصر نے مصنوعی وارننگ کے سے انداز میں کہا۔
اظہر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘
’’بھئی! تو نہ نماز پڑھتا ہے۔ نہ تلاوت کرتا ہے۔ تراویح بھی کبھی کبھار۔ تو اللہ کو خالی بھوک پیاس تو نہیں چاہیے ! میں نے آج مولوی صاحب سے سنا ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: “بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں، جنھیں ان کے روزےسے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اوربہت سےشب میں عبادت میں مشغول رہنے والےایسے ہیں، جنھیں ان کی عبادت سے سوائے بے خوابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
اظہر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ گہر ی سوچ میں گم ہو گیا تھا۔ کافی دیر وہ یونہی بیٹھا رہا۔
ناصر چادر اورڑھ کر سونے کی تیاری کرنے لگا۔ اس نے سوچا شاید ناراض ہو گیا ہے۔ لیکن نہیں۔ اس کے چہرے سے تو نہیں لگ رہا۔ ہیں یہ کیا!
اظہر نے پھر سے موبائل اٹھا لیا تھا۔ ناصر نے اپنے موبائل میں الارم سیٹ کیا اورسو گیا۔
سحری کے ٹائم ناصر کی آنکھ، اظہر کے موبائل میں الارم بجنے سے کھلی تھی۔


{rsform 7}