اس گھر میں ایسا کیا ہے جس پر ساجدہ اتنی شکرگزار ہے؟  سمیہ نے اپنے دل میں سوچا۔

اور پھر جتنی دیر سمیہ وہاں رہی، غیر محسوس طور پر ساجدہ کا جائزہ لیتی رہی۔ وہ اللہ کی بندی ہر ہر بات پہ الحمدللہ کہتی۔

چائے بنانے کے لئے اٹھی تو شکر الحمدلله!

فریج سے دودھ نکالنے لگی تو الحمدللہ ۔ پھر چائے لے کر بیٹھی تو زبان پر وہی کلمہ۔شکر ہے پروردگار کا، بڑی نعمتوں میں رکھا ہوا ہے ۔ 

 

سمیہ اپنے بارے میں سوچنے لگی۔  وہ اس طرح اگر اپنی  کسی دوست کو خالی چائے پیش کرتی تو دل ہی دل میں نہ جانے کتنا کُرلاتی۔ ’’وحید اتنا کم خرچ دیتے ہیں مجھے ڈھنگ سے چائے بھی نہیں پلاسکتی کسی آئے گئے کو۔‘‘ اور یہ ساجدہ کی زبان پر کیسے شکر کے کلمے ہیں۔ سمیہ کی سوچ کو ایک نئی راہ ملی۔

ساجدہ چائے کے خالی برتن لے کر اٹھی اور باورچی خانے میں رکھ کر ہانڈی چڑھانے لگی۔ سمیہ بھی اس کے پاس ہی آکر کھڑی ہوگئی، دونوں سہیلیاں پھر باتیں کرنے لگیں ۔

سمیہ نے دیکھا۔ ساجدہ کیسے شکر کے جذبات کے ساتھ کھانا بنارہی تھی۔وہ پاؤ بھر گوشت ہانڈی میں ڈال کر پیاز ٹماٹر اور باقی سب مرچ مصالحے اس میں ڈالنے لگی۔  اور ایک ایک چیز ڈالتے ہوئے الحمدللہ کہتی۔

’’ اللہ تیرا شکر، پیاز، ٹماٹر لہسن ادرک سب کچھ تو نے دے رکھا ہے، مصالحوں کے ڈبوں میں سب کچھ موجود ہے۔ دیکھو تو ذرا سمیہ نمک کتنی معمولی سی چیز ہے مگر نہ ہو تو کھانے کا ذائقہ ہی نہیں آتا۔‘‘اور پھر اس نے الحمدللہ کہتے ہوئے ہانڈی میں نمک ڈالا۔ 

سمیہ سے اب برداشت نہیں ہورہا تھا۔ بہت سے آگہی کے در اس پر کھلتے جارہے تھے ۔ساجدہ کے شکر نے اس کو شرمندگی کے مارے زمین بوس کردیا تھا۔ساجدہ اتنی بیمار تھی اور پھر بھی بات بات پہ شکر ادا کرتی تھی۔

’’شکر ہے میں چل پھر سکتی ہوں، اپنی مرضی سے جہاں چاہے اٹھ بیٹھ سکتی ہوں۔کسی کی محتاج تو نہیں ہوں۔ اپنے بچوں کے لئے کھانا بنا لیتی ہوں۔ گھر کے دیگر کام بھی آہستہ آہستہ کر ہی لیتی ہوں ۔دوائیں بھی اللہ کا فضل ہے، وقت پر آجاتی ہیں ۔ عزت سے اپنے گھر میں رہتی ہوں۔‘‘ ساجدہ کی بات جاری تھی کہ سمیہ نے بیچ میں ٹوک دیا۔

’’مگر یہ تمہارا گھر تو نہیں ہے ساجدہ، یہ تو کرائے کاہے۔‘‘

’’ارے بھئی کرائے کا ہے تو کیا ہوا، جس پاک ذات نے کرائے کا گھر دیا وہ اپنا ذاتی گھر دینے پر بھی قادر ہے۔ اور جب رہتی میں ہوں اس گھر میں تو میرا ہی ہوا ناں، بیوقوف سہیلی۔‘‘

سمیہ ہنس پڑی۔’’ ارے ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو۔‘‘ 

’’بس میرے مالک کا شکر احسان ہے جس نے اپنی بہت سی مخلوق میں مجھے فوقیت بخشی۔ ساجدہ پھر سے بارگاہِ الٰہی میں شکرگزار تھی۔

سمیہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن۔

’’اور وہ جو تمہارا جھگڑالو قسم کا شوہر ہے، اس پہ بھی شکر کرتی ہو تم؟ سمیہ نے ذرا تیکھے لہجے میں پوچھا۔

’’ہاں سمیہ اس پر بھی شکر، کیونکہ اسے میرے رب نے میرے لئے چنا ہے ۔ اس کے جھگڑے مجھے اللہ کے بہت قریب کردیتے ہیں، جب میں دکھی ہوتی ہوں اور اللہ کے سامنے دامن پھیلا کے بیٹھ جاتی ہوں ۔کتنا سکون ملتا ہے اس وقت، اپنے سارے غم اپنے پالن ہار کے حوالے کرکے خود مطمئن ہوجاتی ہوں ۔ میرے مالک تیرا ہر حال میں شکر ہے۔‘‘

 ساجدہ گاہے گاہے آسمان کی طرف دیکھتی اور بڑی محبت سے الحمدللہ کہتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمیہ جلدی جلدی اپنے گھر لوٹ آئی۔ جذبات میں ایک تلاطم برپا تھا۔  آج اسے بھی اپنے دکھڑے کسی کو سنانے تھے۔ اور یہ دکھڑے محرومیوں کے دکھڑے نہ تھے، بلکہ نعمتوں پر ناشکری کے دکھڑے تھے۔

وہ وضو کرتے ہی سجدے میں جاگری۔بہت روئی تڑپی اللہ کے سامنے۔

’’میرے پیارے اللہ!  میں نے آج تک صرف تیری ناشکری ہی کی ہے، تیری سب نعمتوں کو جھٹلا کر میں نے صرف مشکلوں اور محرومیوں کو دیکھا،  کبھی دل سے تیرا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ مجھے معاف کردے رب کریم! تو نے مجھے اتنی نعمتوں سے نوازا اور میں یہ سب کچھ اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی رہی،  اور ذرا ذرا سی پریشانیوں پر تجھ سے شکوے شکایت کرتی رہی۔ کبھی تیری نعمتوں پر تیری عطاؤں پر غور ہی نہیں کیا۔یہ ہنستے کھیلتے خوبصورت صحتمند بچے۔ کتنے فرمانبردار ہیں میرے، کتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے ۔  میرے ابرو کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں ۔ میرے گھر کی رونق، میری ممتا کی ٹھنڈک، میرے دل کا سرور ہیں ۔محبت کرنے والا شوہر ہے، اپنا ذاتی گھر ہے، پیار کرنے والی مخلص سہیلیاں ہیں ۔ بہن بھائی ہیں، بھابیاں ہیں ۔ میکہ ہے سسرال ہے، سب کچھ تو ہے میرے پاس۔لیکن میں ہمیشہ اس چیز کو دیکھتی ہوں جو میرے پاس نہیں ہے ۔ ہاں، ساس کے گلے لبوں پر رہتے ہیں، مگر جب وہ آتی ہیں اور بچوں کو سینے سے لگاکر بیٹھ جاتی ہیں وہ محبت مجھے ان کی نظر نہیں آتی۔ دیور، جیٹھوں، نندوں اور جیٹھانی دیورانی کی ذرا ذرا سی بات مجھے بری لگتی ہے، مگر یہ نہیں دیکھتی کہ انہی لوگوں کے دم سے میرے بچوں کا ددھیال آبادہے ۔ میرے شوہر کی پیٹھ مضبوط ھے ۔بچے خوشی خوشی دادی کے گھر جاتے ہیں، پیار ملتا ہے تو جاتے ہیں ناں مگر میں ہمیشہ ان کی کوئی نہ کوئی بات پکڑ کے خفا رہتی ہوں ۔ کبھی بیمار ہوجاؤں تو بیماری کو دیکھتی ہوں۔ اس پر ملنے والے اجر کو بھول جاتی ہوں۔ کوئی تنگی ہوتی ہے تو اس پر نظر رکھتی ہوں، آسانیاں بھول جاتی ہوں۔ میرے اللہ!  میرے جرموں کی فہرست کتنی طویل ہے۔  مجھے معاف کردے میرے اللہ !مجھے بہت دیر لگی سمجھنے میں۔  لیکن میں سنبھل گئی ہوں پیارے اللہ ! اپنی بندی کو تھام لے۔مجھے معاف کردے میرے اللہ مجھے معاف کردے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور آج پھر بارش برس رہی تھی، حسب معمول پورا گھر پانی سے جل تھل ہورہا تھا ۔

مگر اب سمیہ تقدیر کے کھیل سمجھ چکی تھی، لبوں پر ایک خوشگوار سی مسکراہٹ لیے وہ دل ہی دل میں رب سے مخاطب تھی۔ میرے پیارے اللہ! میں تجھ سے ہر حال راضی ہوں، میں سمجھ چکی ہوں کہ میں غلط تھی۔ میری سوچیں غلط تھیں۔ مجھے معاف کردیجیے۔ میرے رحیم، میرے کریم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!