Men Zindagii

   اس Category   میں نوجوانوں کے لیے لکھی گئی دلچسپ کہانیاں شامل ہیں۔ زندگی کے مشکل اور الجھن بھرے لمحات سے کیسے نمٹناہے اور اپنے رب کو کیسے راضی  کیسے کرنا ہے، یہ جاننے  کے لیے یہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔


arrownew e0آج صبح سے بہت تیز بارش برس رہی تھی، بادل خوفناک آواز میں گرجتے، کبھی کبھی بجلی بھی چمکتی تو کالے بادلوں سے ڈھکا آسمان ایک دم روشن ہوجاتا۔ 

سمیہ اپنے کمرے میں بہت اداس بیٹھی تھی۔ کمرے میں چاروں طرف بارش کا پانی بہت تیزی سے ٹپک رہا تھا۔ سمیہ نے بچوں کے ساتھ مل کر بارش شروع ہوتے ہی کمرے کا سارا سامان ایک کونے میں اکٹھا کردیا تھا تاکہ بھیگنے سے محفوظ رہے۔ جلدی جلدی اپنی ساری کتابیں بھی، جو کپڑوں کی الماری کے اوپر رکھی رہتی تھیں، کو اندر الماری میں جگہ بنا کے رکھ دیا۔ 

کتنی شدید خواہش تھی اس کی کم از کم ایک کتابوں کی الماری تو ہوجس میں وہ اپنی ساری کتابوں کو ترتیب سے رکھ دے اور جب دل چاہے آسانی سے نکال کر پڑھ لیا کرے۔

جب شجاع سے میری شادی ہوئی تو میری رہنمائی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اس میں بھی میں دوسروں کو قصور وار سمجھتی تھی۔ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے کرتی، بدگمان رہتی۔ میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ شجاع کے روپ میں کتنا اچھا شوہر دیا ہےاللہ نے ۔ یہ شجاع ہی تھا جس نے مجھے گھر دیا اور اپنی محبت دی ۔ مگر میں ان تمام نعمتوں پر غور کرنے کی بجائے گھر کے کام کاج کا بوجھ اور زندگی کی دیگر سہولیات کے نہ ہونے کا رونا روتی رہی۔ شجاع کئی بار مجھے پیار سے سمجھاتا، کبھی غصے میں آکر لڑائی شروع کردیتا۔ 

 یاسمین گل کے کنگھی کرتے ہاتھ اچانک رک گئے اور فون کی گھنٹی پروہ فوراً اس طرف متوجہ ہوئی ۔
برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے مسلسل ہونے والی بیل پر جیسے ہی فون کے قریب گئی تو سکرین پر وہی نمبر جگمگارہا تھا جو پچھلے ہفتے سے اس کو بڑی الجھن میں مبتلا کیے ہوئے تھا ۔اس نے لرزتے ہاتھوں اور کپکپاتی آواز سے اور بے ترتیب ہوتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کال سنی تو وہی جانی پہچانی آواز اور وہی مطالبہ تھا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ۔۔۔ کہ اگر ایک لاکھ نہ دیا تو انجام تمہارے سامنے ہے۔
یاسمین گل ادھ موئی سی بیڈپرگرگئی اورماضی کے دنوں کویادکرنے لگی۔ایک غلطی نے اسے تباہی کے موڑتک پہنچادیاتھا۔
*
دروازہ کھلتے ہی ناجیہ کی چہکتی ہوئی آواز یاسمین کے کانوں سے ٹکرائی:
’’ ہیلو یاسمین !کل کی پارٹی کی تیاری کیسی ہے؟ میں ذرا بازار سے آرہی تھی ،سوچا یاسمین سے اس کی تیاری کی خبرلوں۔‘‘
’’ہاں ناجیہ زبردست تیاری ہے۔ ‘‘

گرمی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی  لان کے ملبوسات عام دکھائی دینے لگتے ہیں۔  رنگ آرائی کا لبادہ اوڑھے، نت نئے  ڈیزائن سے مزین  لان کے سوٹ ہر چھوٹی بڑی دکان کی زینت بنے نظر آتے ہیں۔

 ایسے میں ہر ایک خاتون کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اسکا لان کا سوٹ سب سے خوبصورت اور منفرد دکھے۔

مختصرا یہ کہ بازار میں گھماگھمی کافی بڑھ جاتی ہے۔

مہرین کاحال بھی کچھ  مختلف نہ تھا۔وہ بھی لان کے سوٹ خریدنے کی متمنی تھی سو بچت کے روپوں میں لان کے سوٹ کا بھی حصہ ڈال دیا۔جیسے ہی روپے پورے ہوئے۔اس نے بھی بازار کی جانب دوڑ لگادی۔

صفیہ بیگم بہوکو بھری دوپہر میں تیار ہوتے دیکھ کرفورا استفسار کر بیٹھیں۔

"اے بہو !!اتنی گرمی میں کہاں چل دیں؟

مہرین اپنی تیاری میں مگن  ساس کی بات پہ ذرا دیر کو رکی۔ان کی طرف دیکھا۔اور مسکراکر بتانے لگی۔

نازیہ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ پہلے پہل تو سب ہی خوش اخلاقی سے پیش آتے رہے پھر آہستہ آہستہ میٹھے بولوں کی پرت اترنا شروع ہوئی ۔ دبے دبے لفظوں میں نازیہ کی پکی رنگت پر باتیں ہونے لگیں۔ نازیہ کی چار نندیں تھیں۔ نازیہ کے شوہر طاہر سب سے بڑے تھے۔

ایک دن وہ عام سے کپڑے پہنے کچن میں کام کر رہی تھی کہ اس کی چھوٹی والی نند اند ر داخل ہوئی ۔

’’اوہ! یہ آپ ہیں نازیہ بھابھی! میں سمجھی ساتھ والوں کی کام والی آئی ہوئی ہے۔ ‘‘ ماریہ نے بظاہر ہنستے ہوئے کہا لیکن اس کی آنکھیں صاف مذاق اڑارہی تھیں۔

 

arrownew e0 ’’آج تو یہ میری تعریف ضرور کریں گے۔‘‘ زلیخا نے اپنا آپ آئینے میں دیکھتے ہوئے سوچا۔ وہ آج بہت دل لگا کر تیا ر ہوئی تھی اور بہت اچھی لگ تھی۔

انصاری صاحب کے آنے کا ٹائم ہو چکا تھا۔ زلیخا نے جلدی جلدی ڈریسنگ ٹیبل سمیٹا اور کچن میں چلی گئی۔ چائے کا سامان تیار تھا۔ اتنے میں گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ گڑیا باہر بھاگی۔

’’بابا آگئے ! بابا آگئے۔‘‘

انصاری صاحب اندر داخل ہوئے تو ان کے ہاتھ میں سبزی، فروٹ اور دیگر سامان تھا۔ گڑیا نے اپنے کھلونوں والا شاپر کھول لیااور زلیخا نے پانی کا گلاس انصاری صاحب کو پیش کیا۔

انصاری صاحب نے بس سرسری سی نظر سے زلیخا کی ساری تیاریوں کو دیکھا اور کہنے لگے۔

بہت سوچ بچار کے بعد زاہد نے بینا کی مدد کے لیے ایک کام والی رکھ لی۔ جو صرف ہفتے اور اتوار کا آتی تھی۔ سدا کی صفائی پسند بینا کو کام والی کا کام کہاں پسند آتا۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ خود بھی جھاڑو اٹھا لیتی اور گھر کو چمکا کر ہی دم لیتی۔ زاہد کے ارمان ادھورے کے ادھورے ہی رہے کہ کبھی تو بینا بن سنور کر اس کے پاس آکر بیٹھے گی اور اسے وقت دے گی۔

دن اسی ڈگر پر چل رہے تھے کہ نئے مہمان کی آمد نے زاہد کو اندر تک سرشار کر دیا۔ہسپتال سے گھر آنے کے بعد اس کی خوشی چڑچڑے پن میں بدل گئی جب بینا نے کہا۔