زخم

          Print

گئے وقتوں میں کسی گاؤں میں اک لکڑ ہارا رہتا تھا۔وہ روز جنگل میں جاتا اور لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرتا اس طرح تنگی ترشی سے گھر چل رہا تھا۔لیکن اسکی بیوی نہایت تنک مزاج اور بدخو تھی۔ ہر وقت زبان پر شکوہ رہتا۔کرنا خدا کا یہ ہوا کہ لکڑ ہارے کی شیر سے دوستی ہوگئی۔اب شیر اسکو لکڑیاں چننےمیں مدد کرتا اور اس طرح اسکی زندگی میں قدرے آسودگی آ گئی۔اک دن لکڑ ہارے نے اپنی دوستی کا ذکر اپنی بیوی سے کیا اور کہا کہ میں اپنے دوست کو کسی دن اپنے گھر بلانا چاہتا ہوں

۔بیوی بہت چیخی چلائی کہ بھلا درندوں اور انسان کی کیا دوستی۔لکڑ ہارے کے سمجھانے سے وہ وقتی طور سے خاموش

ہو گئی۔اک دن موقع مناسب دیکھ کر لکڑ ہارا شیر کو گھر لے آیا ۔ بیوی نے شیر کو دیکھتے ہی چلانا شروع کر دیا اور خوب برا بھلا کہا۔یہ سن کر شیر بہت آزردہ ہوا اور لکڑ ہارے سے کہا کوئی بات نہیں۔  بس تم ایسا کرو کہ اپنے کلہاڑے سے میرے سر پر اک ضرب لگا دو۔لکڑہارے نے کہا میں اپنے دوست کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہوں۔ جب شیر نے زیادہ اصرار کیا تو اس نے شیر کے سر پر ضرب لگا دی جہاں سے خون کا فوارہ جاری ہو گیا اور شیر واپس جنگل چلا گیا۔لکڑہارا کئی دن تک خوف و ندامت سے جنگل نہ گیا۔آخر اک دن بھوک سے مجبور ہو کر ڈرتے ڈرتے جنگل کا رخ کیا ابھی وہ  درخت پر چڑھا لکڑیاں کاٹ ہی رہا تھا کہ دور سے شیر آتا نظر آیا ۔خوف کے مارے اسکا برا حال ہو گیا ۔شیر عین اس درخت کے نیچے آن کھڑا ہوا۔اور اپنے دوست سے کہا کہ گھبراؤ نہیں۔ ہم اب بھی دوست ہیں۔  تم ذرا نیچے آؤ۔لکڑہارا ڈرتے ڈرتے نیچے آیا۔ شیر نے کہا ۔ تم میرے سر کے بال اٹھا کر دیکھو وہ زخم ہے یا بھر گیا۔لکڑ ہارے نے دیکھا اور بتایا کہ اسکا تو نشان تک نہیں۔  شیر نے جواب دیا کہ دوست ! لیکن تمہاری بیوی کے باتوں کے زخم میرے دل میں اب بھی تازہ ہیں۔ پس تلوار کا زخم مندمل ہو جاتا ہے لیکن الفاظ سے دیے گئے زخم کبھی نہیں بھرتے۔


{rsform 7}