بند لبوں کے نوحے

          Print

’’اماں جان! امجد بھائی کی شادی ذرا سادگی سے ہونی چاہیے نا!“ میں نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ اماں برا مان گئیں۔ ”ارے کیا دوسری شا دی ہے میرے بیٹے کی؟ بھئی میں تو سارے ارمان پورے کروں گی۔۔۔‘‘

’’نہیں۔۔۔ لیکن کچھ تو پتہ چلے ناکہ ایک مذہبی اور عام گھرانے کی شادیوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔۔‘‘

      ’’سارہ بیٹا!“ اب کہ ابو جی نے سنجیدگی سے میری بات کاٹ دی۔ ”آپ اپنے فرق رہنے دیں۔

یہ بڑوں کے کام ہیں۔ ہم زیادہ بہتر جانتے ہیں کیا کرنا ہے کیا نہیں۔“  میں کیا کہتی۔ چھوٹے بیٹے کو اٹھا کے باہر آگئی لیکن ایک جملہ دل میں اٹک سا گیا تھا کہ آج ہم کسی کی بیٹی کو سادگی سے لائیں گے کل کوئی ہماری بیٹیوں بہنوں کو سادگی سے بیاہ لے جائے گا۔ لیکن میری سنتا کون؟ اماں کو بہت سمجھایا لیکن وہ تو بس تیاریوں میں مگن بہت خوش تھیں۔

کبھی مجھے ڈانٹ دیتیں کبھی ایسے ہو جاتیں جیسے میں نے کچھ کہا ہی نہ ہو!

      اس دن زینی میری چھوٹی بہن فون پہ بتا رہی تھی کہ لڑکی والے ڈھائی لاکھ کا فرنیچر بنوا رہے ہیں۔ اماں اور امجد بھائی بہت خوش ہیں۔ میں نے اگلے دن اماں سے فون پہ کہا۔ ”اماں! میری پیاری اماں! ان کو منع کر دیں نا۔ ہم خود سب کچھ بنا لیں گے۔ امجد بھائی کا اپنا کاروبار اتناپھیل گیا ہے اب تو۔۔۔“  ”ارے بیٹا! تجھے سمجھ کیوں نہیں آتی۔ وہ اپنی خوشی سے سب کچھ دے رہے ہیں۔ ہم نے مانگا تھوڑی ہے۔“ اماں بہت پرجوش تھیں۔ ان کا سب کچھ تو ان کی بیٹی ہے اماں! فرنیچر تو وہ آپ کو خوش کرنے کے لیے دے رہے ہیں شاید۔۔۔ میں نے بے چارگی سے سو چا۔ ”پھر تو کب آرہی ہے؟ میں نے جوڑوں کی لسٹ بنا لی ہے۔ بارات کا جوڑا تو امجد دوستوں کے ساتھ خود ہی لے آئے گا۔ دس ہزار مانگ رہا تھا۔ میں نے بیس دے دیے۔ ارے دل کھو ل کے کرے شاپنگ! سارہ! سن رہی ہے نا۔۔۔“  ”جی اماں“ میں کیا کہتی۔خیر شادی ہونا تھی، بہت ہی دھوم دھام کے ساتھ ہو گئی۔ سعدیہ بھابھی بہت پیاری تھیں صورت میں بھی عادات میں بھی۔

پانچ سال تو پلک جھپکنے میں گزر گئے۔ میں دوسری بار پھوپھو بنی تھی۔ ڈھیر سارے ننھے ننھے کپڑے لے کر ابھی امی کے ہاں پہنچی ہی تھی کہ زینی کی اونچی اونچی آوازیں آنے لگیں۔ اماں نے مجھے بے حد شرمندہ نگاہوں سے دیکھا تو میرا دل کٹ کے رہ گیا۔ ”بیٹا! پتہ نہیں زینی کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔کیو ں اتنی چڑچڑی ہوتی جا رہی ہے۔۔۔سعدیہ سے ہر وقت کا جھگڑنا۔۔۔“ اماں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ”اپنا موازنہ کرتی رہتی ہے سعدیہ سے۔۔۔ کوئی رشتہ آبھی جائے تو اتنے مطالبے کرتے ہیں  جیسے ہم کوئی جدی پشتی رئیس ہوں! امجد کا اپنا کاروبار ٹھپ ہے۔۔۔ زینی کا جہیز کون بنائے۔۔۔ہائے میری بچی!!“ اماں رونے لگیں۔  بھابھی کے ابو کون سا جدی پشتی رئیس تھے اماں! میں نے بے اختیار سوچا۔یہ مانگنا نہیں تو اور کیا تھا۔۔۔آپ کتنے جوش سے ان کو سناتیں تھیں۔ ”ہمارے خاندان میں فلاں بچی کو اتنا جہیز دیا گیا فلاں کو گاڑی  ڈیکو فرنیچر۔۔ فلاں کو اتناکچھ۔۔۔“ اور بھابھی کی امی کا بجھتا چہرہ!!ان کے ابو جب قرض لے کر جہیز بنا رہے تھے اور یہ بات ہم تک پہنچ بھی گئی تھی لیکن ہم نے انہیں مروتا ً بھی منع نہیں کیا بلکہ فخر سے سب کو ”شاندار جہیز“ لانے کی نوید سناتے رہے تب آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں نہ آئے اماں؟ پانچ لاکھ میں تو کئی غریب اپنی بیٹیوں کو بیاہ سکتے تھے مگر ہم نے صرف نمود و نمائش میں لگا دیے۔۔۔میں سوچتی رہی اور اما ں کو سینے سے لگائے ان کے آنسو پونچھتی رہی۔

      اب اماں نہیں رہیں لیکن ہوتیں بھی تو کیا زینی کے ان گنت سفید بال دیکھ کر رہ پاتیں؟  ”زینی! ان کے دوست ہیں، پہلے بیوی فوت ہو گئی ہے۔۔۔ دو بچے ہیں چھوٹے۔۔۔ انہیں ہاں کہ دوں؟ “فون پہ بھی میرا لہجہ پر امید تھا۔۔۔اور زینی کی طویل خاموشی کا مطلب  ”ہاں“ کے سوا اور ہو بھی کیا سکتا تھا!  اے کاش دھوم دھام اور ”شوشا“ کے پیچھے چھپے بند لبوں کے نوحے کوئی تو سن لے!!


{rsform 7}