رکن کی درجہ بندی: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

2پُکار

مفتی ڈاکٹر رشید احمد خورشید

حصہ دوئم

ہمارا معاشرہ "

یقینا ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اگر ہمیں مفت میں مل گئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کو بالکل بے اعتدالی کے ساتھ استعمال کرناشروع کردیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس نیک کام میں لگنے کی وجہ سے گھر والوں کے حقوق ضائع ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ مثلا والدین کی خدمت میں کمی، بیوی بچوں کے معاملات میں عدم دلچسپی اور گھر والوں کو وقت نہ دینا۔ گھر کے اجتماعی کاموں میں دلچسپی نہ لینا وغیرہ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی کام کا شوق ہوا تو اس میں ایسے مصروف ہوئے کہ فرائض وواجبات ہی ترک ہونے لگ گئے اور دل ہی دل میں خود کو یہ تسلی دینے لگے کہ میں تو ایک نیک کام میں ہی لگا ہوا ہوں، اللہ تعالی معاف فرمادیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات کسی طرح درست نہیں۔

جب کسی کے ساتھ دوستی کرنی ہوتی ہے تو یوں دوستی کرتے ہیں کہ بس دل کی ہر بات اور اپنا ہر راز اس کے سامنے کھول کررکھ دیتے ہیں اور ایک دوسر ے پر بس واری جاتے ہیں۔ حق نا حق کو دیکھے بغیر ہر بات، ہر کام، ہر قول وفعل میں اس کی تائید وتصدیق کرنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اور کسی سے ناراضگی ہوتی ہے تو یوں اظہار ہوتا ہے کہ گویا ازلی وابدی دشمنی ہو یا گویا ایک کافر اور مسلمان کی دشمنی ہے۔ پھر مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ غیبت میں لگ جاتے ہیں۔ کچھ گالم گلوچ شروع کردیتے ہیں۔ کچھ اپنے ہاتھ سے دوسرے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ کچھ منصوبے بنانے کو عین عبادت سمجھنے لگتے ہیں اور کچھ تو جان ہی کے درپے ہوجاتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے جو کئی کتب حدیث میں مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”أَحْبِبْ حَبِیبَکَ ہَوْنًا مَا عَسَی أَنْ یَکُونَ بَغِیضَکَ یَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِیضَکَ ہَوْنًا مَا عَسَی أَنْ یَکُونَ حَبِیبَکَ یَوْمًا مَا.“ اپنے دوست سے محبت میانہ روی کے ساتھ کرو، شاید کل وہ تمہارا دوست نہ رہے اور اپنے دشمن سے دشمنی بھی اعتدال میں رہتے ہوئے کرو، ممکن ہے کل کو وہ تمہارا گہرا دوست بن جائے۔

“ اسی طرح بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ کسی شخص میں کوئی ایک خوبی دیکھی تو بس اس پر یوں فریفتہ ہوئے کہ اپنا سب کچھ اس کے حوالے کردیا۔ کسی ایک فن میں مہارت دیکھ کر اس کو سب نئے اور پرانوں کا سربراہ مقرر کردیا اور بس سب کچھ اس کے حوالے کردیا۔ پھر اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے لگے اور اگر کسی شخص میں کوئی برائی دیکھی یا کسی فن اور کام میں نقص اور خامی کا پتا چلا تو چاردانگ عالم اس کے ڈنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ”لا تَعجَلُوا بِحَمدِ النَّاسِ وَلَا بِذَمِّہِم فَلَعَلَّ مَا یَسُرُّکُم مِنہُ الیَومَ یَسُؤکُم غَدًا وَمَا یَسُؤکُمُ الیَومَ یَسُرُّکُم غَدًا ……“ یعنی لوگوں کی تعریف اور مذمت کرنے میں جلدی سے کام نہ لو۔ اس لیے کہ عین ممکن ہے کہ جو چیز تمہیں آج اچھی لگ رہی ہے وہی چیز تمہیں کل بری لگنے لگے اورجو بات تمہیں آج ناگوار محسوس ہوتی ہے کیا پتا کل کو وہ تمہیں اچھی لگنے لگے……“(شعب الایمان:261/5)

چنانچہ قرآن کریم کی کئی آیات سے اس بات کو بہت واضح انداز میں سمجھاجاسکتا ہے کہ اسلام کا مزاج ہی اعتدال، میانہ روی، درمیانہ پن اور بیلنس کے ساتھ چلنے کا ہے۔ قرآن کریم کی آیت ہے: ”وَلَاتَجعَل یَدَکَ مَغلُولَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَاتَبسُطہَا کُلَّ البَسطِ فَتَقعُدَ مَلُومًا مَّحسُورًا.“ (الاسراء:29) یعنی ”نہ اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلادو کہ بعد میں ملامت زدہ اور حسرت کرتے رہو۔“ اس آیت مبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیاجارہا ہے کہ آپ خرچ کرنے میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کریں۔ نہ تو ہاتھ کو بالکل روک کر رکھیں اور نہ ہی بالکل کھلاچھوڑدیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”الاقتصاد فی النفقۃ نصف المعیشۃ“ خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا نصف معیشت ہے۔ اب بعض لوگ بخل کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور ضرورت کے وقع پر بھی پیسہ خرچ کرنے میں ان کو ہچکچاہٹ ہوتی ہے اور بعض ایسے سخی بن جاتے ہیں کہ بے موقع بھی پیسہ خرچ کرنے کو سخاوت سمجھتے ہیں۔ شریعت ان دونوں کے بیچوں بیچ ایک درمیانے راستے کا حکم دیتا ہے۔

pukaar2