Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

4 پُکار

مفتی ڈاکٹر رشید احمد خورشید

"الوداع مفتی محمود اشرف عثمانی رحمہ اللہ !ہزاروں آنکھیں پرنم ہیں!"

کڑے سفر کا تھکا مسافر، تھکا ہے ایسا کہ سوگیا ہے خود اپنی آنکھیں تو بند کرلیں، ہر آنکھ لیکن بھگوگیا ہے ویسے تو سب ہی علماء، ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ مینارہ نور اور چراغ ہدایت ہیں۔ ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است۔ ہر پھول کی الگ خوشبو ہے۔ ہر پتی کا اپنا رنگ ڈھنگ۔ علم وعمل کےجہاں انہی کے دم سے بفضل خداوندی آباد ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت مفتی محمود اشرف عثمانی رحمہ اللہ جیسی نابغہ روزگار، عبقری، علمی اور سب سے بڑھ کر حقیقی عملی زندگی گذارنے والی شخصیات بہت کم ہوا کرتی ہیں۔ ممکن ہے قارئین کو یہ مبالغہ آرائی یا تکلف محسوس ہو، لیکن یقین کیجیے! یہ مبالغہ نہیں۔ ہم نے حضرت استاذ محترم رحمہ اللہ سے 2009 میں بخاری شریف پڑھی۔ حضرت کا انداز تدریس مقبول عام وخاص تھا۔ آپ حضرت کے کسی بھی شاگرد سے مل کر ان کے انداز تدریس کے بارے میں پوچھ لیں، آپ کو ایک ہی جواب ملے گا: "کمال انداز تدریس تھا۔

" تربیت کے پہلو کی طرف آئیں تو "فقہ الحدیث" بلکہ "فقہ النصوص" کہیے پر اللہ تعالی نے استاذ محترم کو جو ملکہ، استعداد اور بصیرت عطا فرمائی تھی،سبحان اللہ! دوران درس ایسے باریک نکات اور حساس مسائل کا استنباط کرتے چلے جاتے کہ سننے والے انگشت بدنداں مارے حیرت کے استاذ جی کو دیکھتے ہی رہ جاتے۔حضرت کے کچھ ایسے ہی ملفوظات کو بعض ساتھیوں نے مرتب کرکے ایک کتابی شکل میں چھاپ بھی دیا ہے۔کتاب کا نام ہے: "استاذ محترم نے فرمایا" مختصر کتابچہ ہے۔ آپ ایک ایک ملفوظ پڑھیں گے تو حیرت واستعجاب کے سمندر میں ڈوبتے چلے جائیں گے کہ کتنا گہرا علم، کتنی گہری بات اور اپنے شاگردوں کی کتنی پیاری تربیت کرگئے ہیں۔ حضرت رحمہ اللہ جس طرح اپنے تلامذہ اور شاگردوں کی تربیت فرماتے تھے، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔

حضرت جب درسگاہ تشریف لاتے تو ابتدائی دنوں میں جو بات ارشاد فرماتے، اس کا مفہوم کچھ یوں ہوتا تھا: "مولانا میں آپ کو جو دین پڑھانے کے لیے آیا ہوں، اس کا نام "اسلام "ہے ۔ آپ لوگ اسلام کے نام پر بہت سی چیزوں کو اسلام سمجھ بیٹھے ہیں۔" میں نے کئی ساتھیوں سے یہ بات سنی اور یہ میرا اپنا بھی احساس رہا کہ بعض اوقات استاذ محترم احادیث کی روشنی میں کوئی ایسی بات فرماتے جو ہماری سوچ اور فکر سے بالکل بھی مطابقت (میچ) نہیں رکھتی تھی۔ مثال کے طورپر بعض چیزوںمیں ہم شدت کو عین اسلام سمجھتے ہیں اور بعض میں حد درجہ نرمی کو عین شریعت قرار دیتے ہیں۔ جب اس کے برعکس استاذجی کچھ فرماتے اور دلیل بھی حدیث ہوتی، تو مرتا کیا نہ کرتا، چار وناچار یقین ہوجاتا کہ اسلام تو وہ نہیں جو میں سمجھ بیٹھا ہوں۔ اس لیے کہ حدیث شریف سے تو کچھ اور معلوم ہورہا ہے۔ ہمارے ایک ساتھی بتانے لگے کہ جب میں نے دورہ حدیث میں داخلہ لیا تو استاذ جی کی بعض باتیں مجھے اتنی بھاری محسوس ہوتیں، گویا کوئی مجھے پتھر اٹھاکر ماررہا ہو یا مجھے برا بھلا کہہ رہا ہو۔ لیکن دوسری طرف دیکھتا تو حدیث کا حوالہ موجود ہوتا تو سرپکڑے حیرانی سے بس دیکھتا ہی چلاجاتا تھا۔ آہستہ آہستہ سال ختم ہوتا تھا تو حضرت طلبہ کے ذہن کو ایسا صاف فرمادیتے اور ایسا اعتدال کا رنگ چڑھادیتے کہ ہر طالب علم استاذجی کا گرویدہ ہوچکا ہوتا اور حقیقت میں حضرت پر جان چھڑکنے کو تیار ہوتا۔ حضرت کے کچھ ملفوظات یہاں نقل کرتا ہوں۔ شاید آپ کچھ اندازہ لگاسکیں۔

ہمیشہ اپنے طلبہ کو بات کرنے کا سلیقہ اور طریقہ سکھاتے کہ ادب آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک دفعہ فرمایا: ’’امر بالمعروف اور نھی عن المنكر کا بہترین طریقہ وہ ہے جو قرآن و حدیث کا ہے،اس کے لیے بات کرنے کا سلیقہ آنا اور موقع محل کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔‘‘ بعض اوقات کسی تقریر سے متاثر ہوکر لوگ اپنا پورا مال صدقہ کردیتے ہیں جس سے گھر والوں کو پریشانی ہوتی ہے اور دلیل میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عمل کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ استاذ محترم ایسے موقع پر فرماتے کہ تمام نصوص اور احادیث کو جمع کرکے مفہوم اخذ کرنا چاہیے۔ چنانچہ فرمایا:’’اپنا پورا مال صدقہ کرنا مناسب نہیں بلکہ بہتر صدقہ وہ ہے جو عن ظہر غنی ہو کہ بعد میں خود محتاج نہ ہو جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے بہت سے صحابہ کرام کو سارا مال صدقہ کرنے سے منع فرمایا۔۔ اسی طرح لوگ سمجھتے ہیں کہ صدقہ تو صرف باہر والوں پر ہوتا ہے حالانکہ بہترین صدقہ تو گھر والوں پر ہوتا ہے۔‘‘ حضرت استاذ محترم کی گفتگو میں جو نرمی، سلاست، شائستگی اور دھیما پن تھا، بخدا کمال تھا کمال! صرف باتوں کے دھنی نہ تھے، عمل کے بھی بڑے پکے اور مضبوط تھے۔ ایک بار فرمایا:’’ہر صحابی میں کوئی نہ کوئی خاص صفت موجود تھی،رحمۃ للعالمین میں صفتِ رحمت غالب تھی اور آپ ﷺ نے فرمایا ارحم امتی بامتی ابو بکر،اسی صفت کی وجہ سے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ صحابہ میں سب سے افضل ہیں۔‘‘’’انسان جتنا نرم ہوگا اتنا ہی زیادہ افضل ہوگا،اللہ تعالی کی رحمت اللہ تعالیٰ کے غضب پر سبقت رکھتی ہے،اور نبی کریم ﷺ سراپا رحیم و کریم تھے اور اس امت کے افضل ابو بکر رضی اللہ عنہ ارحم امتی بامتی ابو بکر ہیں۔‘‘ اور پھر یہ صفت ہم نے اپنے استاذ محترم میں بدرجہ اتم دیکھی۔ رحمہ اللہ۔ دوران درس غلط تصورات کی اصلاح بھی ساتھ فرماتے تھے۔ بہت سی ایسی معاشرتی باتیں جو بظاہر بہت چھوٹی محسوس ہوتی ہیں، لیکن اس کا انسانی زندگی پر بڑا اثر ہوتا ہے، ان کو پورے اہتمام سے بیان فرماتے۔

ایک بار فرمانے لگے:’’افضل کے ہوتے مفضول کو امیر بنانا جائز ہے ، جیسے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہوتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا۔‘‘ رشتے داری کی اہمیت اور صلہ رحمی کی فضیلت پر بہت زور دیتے۔ طلبہ کا نیکی کا گھمنڈ اور بزرگی کا تکبر تو نکال باہر پھینکتے تھے۔ ایک بار دوران درس فرمانے لگے:’’خون کے رشتے اسلام وکفر سے ختم نہیں ہوتے تو فسق و فجور سے کیسے ختم ہوں گے۔ کیونکہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے کافر والد کو "یا ابت" ہاں کفر یا فسق و فجور کی وجہ سے محبت کرنا جائز نہیں ہے لیکن رشتہ داری کا خیال رکھنا اور اچھا سلوک کرنا چاہیے۔‘‘ بعض لوگ سختی کو دین سمجھتے ہیں کہ جتنی سختی کروگے، اتنے دین دار بنو گے، ایسے لوگوں کی بہت اصلاح فرماتے۔

ایک بار اسی بابت فرمانے لگے:’’غم کے وقت آنسووں کا جاری ہونا اور غم کے آثار کا ظاہر ہوجانا تقوی یا زہد کے خلاف نہیں ہے۔‘‘ ہائے! میرے اللہ! کیا خزانہ تھا جو آپ نے ہمیں عطا کیا تھا۔ آپ کی امانت تھی۔ آپ نے واپس لے لیا۔ یا اللہ! ہماری بس اتنی التجا ہے کہ ہمارے استاذ جی راحت عطا کیجیے گا۔ انہوں نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ یا اللہ! اس کا بدلہ انہیں ضرور دیجیے گا۔ یا اللہ! ان کے لاکھوں شاگرد اس دنیا میں دین کی خدمت کررہے ہیں، یا اللہ! اس کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنادیجیے گا۔ یا اللہ ہمارے استاذ جی ہر قسم کی تکلیف سے محفوظ رکھیے گا۔ دنیا میں انہوں نے بہت بیماریاں اور تکلیفیں سہی ہیں۔ یا اللہ! یا اللہ! رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی لکھنے کو بہت کچھ ہے۔

کیا کیا خوبیاں اور صفات لکھوں۔ آخر میں بس یہ گذارش کروں گا کہ حضرت کے آڈیو دروس قرآن سننے کو اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرلیں۔ آپ کی زندگی بدل جائے گی۔ زندگی کا قرینہ اور حیات کا سلیقہ عطا ہوجائے گا۔ یہ دروس یوٹیوب پر ، درس قران ڈاٹ کام اور مختلف ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ ایسی کوئی ترتیب بنائیں کہ مستقل ان کو سننے کا سلسلہ چلتا رہے۔ کچھ عرصے بعد ان شاء اللہ آپ مجھے دعائیں دیں گے۔ پ

چھلےکالمز پڑھنےکے لئے درس قرآن ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر"آج کی بات" کلک کریں www.darsequran.com

pukaar4